دل افروز
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - دل کا روشن کرنے والا، فرحت و انبساط پیدا کرنے والا۔ دلوں کی دھڑکنیں ہاتھوں کی گرمی پیار کی باتیں ہزاروں اجنبی آنکھوں کی دل افروز سوغاتیں ( ١٩٨٥ء، شاذ تمکنت (برش قلم، ١٣٠) )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ فارسی مصدر 'افروختن' سے فعل امر 'افروز' بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔